ارشادباری تعالی ھے :"أو كظلمات في بحر لجي يغشاه موج من فوقه موج من فوقه سحاب,ظلمات بعضها فوق بعض إذا أخرج يده لم يكد يراها ومن لم يجعل الله له نوراً فما له من نور"(سورة النور آية 40).
ترحمہ: یا مثل ان اندھیروں کے ھے جو نہایت گھرے سمندر کی تہ میں ھوں جسے اوپر تلے کی موجوں نے ڈھانپ رکھا ھو پھر اوپر سے بادل چھاۓ ھوۓ ھوں الغرض اندھیریاں ھیں جو اوپر تلے پے در پے ھیں جب اپنا ھاتھ نکالے تو اسے بھی قریب ھے کہ نہ دیکھ سکے اور (بات یہ ھے کہ) جسے اللہ تعالی ھی نور نہ دے اس کے پاس کوئی روشنی نھیں ھوتی (سورہ نور آیت 40)
سائنسی حقیقت:
انسائکلوپیڈیا برٹانیکا کی تحقیق کے مطابق اکثر سمندر گھنے یا کثیف بادلوں کی پرت سے ڈھکے رھتے ھیں جو سورج کی روشنی کو روکے رکھتے ھیں جیسا کہ سٹلائٹ سے لے گئی اکثر تصویروں میں ظاھر ھوتا ھے ۔ کیونکہ یہ بادل سورج کی بہت سی شعاعوں کو روک لیتے ھیں اس طرح اچھی خاص روشنی کو روک لیتے ھیں باقی روشنی کے ایک حصے کو پانی اپنے اندر جذب کر لیتا ھے جو پانی کی گھرائیوں کے بڑھنے
مزید پڑھیے۔۔۔