بسم اللہ الرحمن الرحیم
کلمة فضیلة الامین العام
بھائیو اوربہنوں:
اس مبارک ویب سائٹ کو دیکھو،
پوری دنیا میں قرآن وحدیث کا سائنسی اعجاز۔
اسلام کا مبارک تحیہ آپ لوگوں کی نذر ھے السلام عليکم و رحمة الله وبركاته،
قرآن وحدیث میں سائنسی اعجاز کا اھتمام کرنے والے آج پورے عالم میں مشرق سے مغرب تک اکٹھا ھیں۔ اور سب کعبہ کے ساۓ اور حرم مکی کے آنگن میں جمع ھیں۔ اور رابطۂ عالم اسلامی کےجھنڈےتلے موجود ھیں۔ تا کہ اس ملاقات کے نتیجہ میں قرآن وسنت میں سائنسی اعجاز بورڈ کی تشکیل عمل میں آسکے۔
یہ علم اور سائنس ھے جس کا انکا صرف بیوقوف اور احمق ھی کر سکتا ھے۔ یہ یقین کی بات ھے، اور جاھل ھی یقین سے دوری اختیار کر سکتا ھے۔ یہ دو واضح اور روشن آیتوں میں
وثنا میں مشغول ھے، اس کائنات میں،انسان میں اور اس انسان کی منظم اور دقیق زندگی ایک نشانی ھے۔
اور قرآن وحدیث میں نشانی ھے جو پورے انسجام اور مکمل توافق کے ساتھ ان حقائق کو واضح کرتے ھیں اور جس قرآن کا نزول ایسے زمانہ میں ھوا، جس میں کسی انسان یا انسانی علم کے اس سے باھر تھا کہ ان حقائق کا احاطہ کر سکے۔
یہ اس بات کی واضح دلیل ھے کہ کائنات کا خالق وھھی ھے جس نے اس قرآن کو نازل کیا، اس عالمی سائٹ کا پیغام یہ ھے کہ تا کہ واضح حقیقت ھمارے سامنے آسکے اور سائنسی ترقی کایہ ایک ذریعہ ثابت تحقیق کے میدان میں ھم انسانیت کی خدمت کا فریضہ انجام دے سکیں جس سے روۓ زمین پر بسنے والے لوگوں کو فائدہ ھو اور زمین میں اس کا وجود ھو ۔
اور دنیا کے سامنےاس بات کو ثابت کر سکیں کہ ھمارا دین ،علم ومعرفت کا دین ھے جو حق کا متلاشی ھے اور ابداع ، ترقی، اور باعزت انسانی زندگی، کے لئےتہذیب وتمدن کی بناء وتعمیر اور مادی ترقی کے اسباب کو اپنا نے کی دعوت دیتا ھے۔ تا کہ زندکی میں عدل عام ھو اور علم نافع اور انسانیت کی خدمت کے کام میں آۓ ۔ ھلاکت وبربادی اور تباھی کاسبب نہ بنے جس کی وجہ سے پوری انسانیت امن وامان کی زندگی گذارے۔ "إن هذا القرآن يهدى للتي هى أقوم، ويبشر المؤمنين الذين يعملون الصالحات بأن لهم أجراً كبيراً"
ترجمہ:حقیقت یہ ھے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ھے جو بالکل سیدھی ھے جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ھے کہ ان کے لئے بڑا اجر ھے۔

علماء ومحقیقین اور اس عالمی سائٹ کےلوگو:
اے وہ لوگو جو اس سائٹ کے ساتھ مربوط رھنا چاہتے ھیں جس کا وجود تم سے ھے اور تمہاری وجہ سے ھے اور جس کا نفع ونقصان تم سے مربوط ھے میں اپنی جانب سے اور تمام برادران علماء وسائنسداں، محققین وباحثین اورقرآن وسنت عالمی سائنس بورڈ میں تمام کام کرنے والوں کی جانب سے آپ حضرات کاشکریہ ادا کرتا ھوں اور آپ حضرات کا ممنون ھوں اور ایسا کیوں نہ ھو ، جبکہ آپ حضرات اللہ کے سامنے اس کی ربوبیت والوھیت اور اسماء وصفات اور عظیم نعمتوں اور احسانات پر شاھد ھو" شهد الله أنه لا إله إلا هو والملائكة وأولو العلم قائماً بالقسط لا إله إلا هو العزيز الحكيم"
ترجمہ: گواھی وھی اللہ تعالی نے اس کی یکسر اس ذات کے کوئی معبود ھونے کے لائق نہیں اور فرشتوں نے بھی اور اھل علم نے بھی اور معبود بھی وہ اس شان کے ھیں کہ اعتدال کے ساتھ انتظام رکھنے والے ھیں ان کے سوا کوئی معبود ھونے کے لائق نہیں وہ زبردست ھیں حکمت والے ھیں ۔
یہ بورڈ جس میں چنیدہ اور منتخب علماء وسائنسداں اورقرآن وحدیث سائنس کے بلند پایہ محققین وریسرچ اسکالرس جمع ھیں اور جو اپنے دامن میں دینی کام کرنے والوں اور سائنس کے میدان میں قرآن وسنت کے نقطۂ نظر سے کام کرنے والوں اور بلندپایہ محققین کو لئے ھوۓ ھے اسکا مقصد محض یہ ھے کہ اس وسیع کائنات میں اللہ کی پوشیدہ نعمتوں کا انکشاف انسانیت اور زندگی کیلئے نافع علوم کا انکشاف حقیقت کی وضاحت اور حق کا غلبہ منہج نبوی اور اس نہ خشک ھونے والے سرچشمہ کی روشنی میں ھوسکے ۔
"هو الذي خلق لكم ما في الأرض جميعا"
ترجمة:وھی (اللہ) ھے جس نےتمہارے لئے بنایا جو کچھ کہ زمین میں ھے سب۔
"قل انظروا ماذا فى السماوات والأرض "
ترجمة:آپ کہدیجیئے کہ دیکھو زمین وآسمانمیں کیا ھے ۔
عالمی قرآن وحدیث سائنسی اعجاز بورڈ مندرجہ ذیل سائسنی منہج اور قرآن وسنت میں سائنسی اعجاز کے قوانین وضوابط کے تحت کام کرنے کا متقاضی ھے ۔
1- مفروصات اور نظریات سے آگے بڑھکر ایسے علمی حقیقت کے مرحلہ کو اختیار کر کے کام کرنا جسمیں کسی طرح کے تغییر وتبدیلی کی گنجائش نہ رھے۔
2- کتاب اللہ یا صحیح حدیث میں اس ثابت شدہ حقیقت کی واضح دلیل موجود ھو ۔
3- اس حقیقت اور نص قرآنی یا نص حدیث کی دلالت کے درمیان آسان اور سھل اسلوب میں ربط پیدا کیا جاۓ۔
4- وہ دلالت عرب کےمفھوم کےمطابق ھو جن کی زبان میں قرآن کریم نازل ھوا ھے۔
5- غیبی امور جن کا علم اللہ کیلئےحاص ھے اورجن پر ھمارا ایمان ھے اور جن کی ھم تصدیق کرتے ھیں انکی تحقیق کا کام نہ ھر۔
6- تفسیر القرآن بالقرآن ھو،یا تفسیر قرآن صحیح حدیث سے ھو یا اسلاف امت کے صحیح اقوال سے ھو پھر عربی زبان کی دلالت کے اعتبار سے بھی صحیح ھو کیونکہ قرآن کا نزول اسی زبان میں ھوا ھے۔
ھم یہاں اس بات کی بھی وضاحت کردینا چاہتے ھیں،کہ سائنسی تفسیر کے حوالے سے جو شبہات اور شکوک پیدا کئے گئے ھیں، اسی طرح سے قرآن وحدیث میں سائنسی اعجاز کے میدان میں پیش کرنے والے ترددات اور شکوک ۔ تحقیق کے وقت معلوم ھوا کہ وہ سب غیر منظم تحقیقات پرمبنی ھیں، جنکے محقیقین نے بعض مقررہ قوانین سے غفلت برتی ھے، یا حکم لگانے میں جلد بازی سے کام لیا ھے۔ پھر یہ بھی ھے کہ یہ تحقیقات غیر مقبول اور شاذ ونادر حالات پر مشتمل ھیں۔ اسی وجہ سے عالمی قرآن وسنت سائنس بورڈ جب کسی تحقیق کو دیکھےگا، تو وہ اس کو اپنی تحقیق کےقواعد وضوابط کی رو سے دیکھ کر کوئی حکم لگاۓگا۔
اس میدان تحقیق کے مصائب اور ان مسائل کی نشر واشاعت کے سلسلے مین پیش آنے والے مصائب اور پریشانیوں کا اثر اور اس کا غبار اس وقت چھٹ جاتا ھے جب ھم اپنی آنکھوں سے قرآن وسنت میں سائنسی اعجاز کی تحقیقات کا مشاھدہ کرتے ھیں۔ ھم بہتر سمجھتے ھیں کہ ان میں سے بعض کا یہاں ذکر کریں تا کہ محققین کی حوصلہ افزائی ھو اور وہ اس راستہ کو اختیار کر کے اللہ کےدین کی مدد کا فریضہ انجام دیں جن میں سے اھم یہ ھیں:
1- مسلمانوں کے دلوں پر اثر پڑتا ھے جب وہ ان واضح حقائق کو دیکھتے ھیں تو ان کا یقین مزید پختہ ھوتا ھے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھت پہلے ان حقائق کو واضح فرما دیا ھے اس طرح سے یہ تحقیقات قرآن وسنت پر عمل اور اس سے ھدایت حاصل کرنے پر ممد ومعاون ثابت ھوتی ھیں۔
2- نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت میں شک کرنے والوں کے افکار کا زبردست رد ھوتا ھے، کیونکہ وہ حقائق سامنے آتے ھیں جن کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے زمانہ میں دی جس میں کوئی سائنسی ترقی نہ تھی،اور اس معاشرہ میں جس میں کائناتی علوم کے میدان میں کوئی تطور یا ترقی کا وجود نہ تھا ،اسلئے یہ سائنسی اعجاز انصاف ّسند سائنسدانوں کیلئے قرآن کریم کی ربانیت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت سے مقتنع کرنے کا بڑا عمدہ مظھر ھے ۔
3- واضح دلائل کے ساتھ اس کا سائنسی جواب ھے کہ دین اسلام در حقیقت سائنس کا دین ھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم اور حصول علم اور علماء کی اھمیت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے بہت سے سائنسی حقائق کا ذکر کیا ھے اور بہت کائناتی اسرار و رموز کی جانب اشارہ کیا ھے جو آج اس کائنات میں بہت سی تحقیقات کا موضوع ھیں اور حدیث شریف میں مذکورہ سائنسی حقائق اور کائناتی اسرار ورموز کا آج تک بھی با وجود تحقیقات کے کوئی انکار نھیں کر سکا۔
4- سائنسی اعجاز مسلمانوں کی ھمتوں کو بیدار کرنے کا ایک اچھا ذریعہ ھے، تا کہ وہ بحث وتحقیق ، ریسرچ اور تجربات ، موازنہ اور دیگر سائنسی انکشافات اور علمی ترقی کے میدان میں آگے بڑھیں، اس کا مزید فائدہ یہ ھوگا کہ قرآن وحدیث میں سائنسی اعجاز کے شواھد کا دائرہ وسیع ھوگا۔
5- اسی طرح یہ سائنسی اعجاز امن وسلامتی کا پل شمار ھوگا اس طور پر کہ اس زمانے میں بقیہ دعوت الی اللہ پلوں کو استحکام بخشے گا جو کہ علم وترقی کا زمانہ ھے ۔ جوکہ بہت سے لوگوں کے اسلام میں داخل ھونے کا سبب بنے گا ۔ جس میں عیسائی، بودھسٹ اور یھود شامل ھیں۔اور ان میں بہت سے لوگوں نے قرآن وحدیث کے سائنسی اعجاز ظاھر ھونے پر حق کی تلاش میں اپنا سفر جاری کر دیا
6- اور بلا شبہ گمراہ اور بھٹکے ھوۓ لوگوں کا دین کی طرف لوٹنا اور غیر مسلمون کا اسلام میں داخل ھونا یہ مسلمانوں کے یقین اور امت اسلامیہ کے دلوں کے اندر احساس برتری پیدا کرےگا، بالخصوص نئی نسل کے اندر جو خلافت عثمانیہ کے سقوط اور استعماری طاقتوں کے غلبہ کی وجہ سے پست حوصلہ ھو گئی ھے۔
7- یہ ھمیں کبھی نہ بدلنے والی حقیقت کی یاددلاتا ھے، جسکی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہکرخبر دی ھے " میری آیت کا ایک گروہ حق کی لئے لڑتا رھے گا، مخالفین پر غالب رھے گا، اس کا آخری آدمی دجال سے جنگ کرے گا، ان کو رسوا کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے انکو کوئی نقصان نھیں پھونچا پائین گے، یہاں تک اللہ کا حکم آجاۓ۔
اور ھم اس عالمی سائڈ میں ایک عالمی سنجیدہ اور قرآن وسنت مین سائنسی اعجاز کے میدان میں کام کرنے والے علماء ومحققین اور اسکالرز کو دعوت دیتے ھیں کہ وہ اپنی راۓ اپنے علوم اور اپنے خیر خواہانہ مشوروں سے ھمیں نوازیں ۔ چونکہ ھم اور وہ اسی ایک راستے کے مسافر ھیں ، اور خاص طور سے عالم اسلامی کے باھر مغرب میں رھنے والے مسلم برادران کو خاص دعوت دیتے ھیں۔ کہ وہ ان ملکوں میں اس مؤثر دعوتی ذریعہ کو استعمال کر کے اوراس سائڈ کی محققانہ مدققانہ تحقیقات سے فائدہ اٹھاتے ھوۓ دوسروں کو دین کی دعوت دیں اور امید کرتے ھیں کہ یہ سائڈ اپنے میدان میں ایک درہء نایاب ثابت ھوگی۔ یہ اس عالمی سائڈ کی دعوت ھے تاکہ ھم ایک وسیع عالمی نٹ ورک تیارکر سکیں، جسکے ذریعہ سب مل کر قرآن وحدیث کے دسترخواں سے خوشہ چینی کرسکیں ۔
بھائیو اور بہنو: اس معاملہ میں اللہ کے مدد گار بن جاؤ ۔
اور اللہ ھی توفیق دینے والا ھے ۔