سائسنی اعجاز کیاھے؟

قرآن کریم کے سائنسی اعجاز کی قسمیں:-

·        لغوی و بیانی اعجاز۔

·        خبری یعنی تاریخی اعجاز ۔

·        تشریعی اعجاز ۔

·        سائنسی اعجاز ۔

سائنسی اعجاز قرآن وحدیث مین سائنسی تفسیر کی ایک قسم ھے۔ نص میں کسی واضح دلالت کے ذریعہ قرآن وحدیث کا خبر دینا جو سائنسی تفسیر کے ضوابط کے مطابق طے شدہ سائنسی حقیقت کے آئینہ میں ھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کسی انسانی وسائل سےاس کا معلوم ھوا ثابت نہ ھو ۔ یہ اس بات کی تین دلیل ھوتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خبردی وہ اپنے آپ کے ذریعہ ھی دی ۔

 

ادارے کی بنیاد اور اسکی ترقی کے مراحل ۔

· 1404ھ میں عالمی مساجد کی سپرم کونسل نے اپنے نویں اجلاس میں قرآن وسنت میں سائنسی اعجاز کے بورڈکی بنیاد رکھی ۔

· 1406ھ عالمی مساجد کی سپرم کونسل نے قرآن و سنت میں سائنسی اعجاز بورڈ کی تشکیل عمل میں لے آئی جسکے سب سے پہلے ڈائرکٹر شیخ عبد المجیدالزندانی ھے اور اس بورڈ نے مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کی مدد سے اپنا مرکز بنایا اور سعودیہ عربیہ کےاندر مختلف مقامات پہ دوسری شاخیں بھی اپنے مقاصد کو بروۓ کار لانے کیلئے کھولی ۔

· 1423ھ رابطہ عالم اسلامی کے ارکان رئیسی نے اپنے 33ویں جلسے میں بورڈ کی تطور کی اور اس کا نام یوں کردیا" قرآن وحدیث میں سائسنی اعجاز کی عالمی بورڈ" یہ رابطہ عالم اسلامی کے ان بورڈوں میں سے ایک ھے جو مستقل بالذات ھے ۔ جو مندرجہ ذیل شعبوں سے مرکب ھے۔

·  عمومی کمیٹی، اوراے کی کمیٹی، تنقیذی کمیٹی،ڈائرکٹر جنرل۔

· جناب ڈاکٹر عبداللہ المصلح نے اس بورڈ کی 1423ھ سے لیکر اب تک ڈائرکٹر جنرل کا عھدہ سنبھالے ھوۓ ھیں۔

 

بورڈ کے مقاصد۔

بورڈ مندرجہ ذیل مقاصدکو روۓکارلانے میں رواں دواں

· قرآن وسنت کی روشنی میں سائنسی اعجاز کے بیان کرنے میں ایسے قواعد وضوابط بنانا جو اجتہاد کو مضبوط وقوی کرتے ۔

· اصول تفسیر کی روشنی میں کوئی علوم سے متعلق کتاب اللہ وحدیث نبوی کے دقائق معانی اور بغیر کسی تکلف و تصنع  کے شریعت  اسلامی کے مقاصد اور لغوی دلالت کے اسباب کو کشف کرنا۔

· ایمانی حقائق کےذریعہ کوئی علوم کا ربط وتعلق، اور موثق ابحاث کے مضامین کوبورڈ کے مختلف تعلیمی اور تنظیمی اداروں میں سائنسی اعجاز قرآنی نصاب کو داخل کرنا ۔

· قرآن و حدیث کی روشنی میں کوئی حقائق اور سائنسی مسائل کی تحقیق کیلئے اسکالرز اور علماء کو تیار کرنا۔

· قرآن و حدیث میں سائنسی اعجاز کے گراموں کی ٹریننگ اور ذھن سازی کرنا تاکہ یہ دعوتی وسائل کا ایک ذریعہ بن جاۓ ۔

·  قرآن وحدیث میں سائنسی اعجاز کے میدان میں پوری دنیا میں ھونے والی کوششوں کے درمیان ھم آہنگی اور اس میدان میں اسکے مختلف مراکز اور مخصوص تنظیموں کے ساتھ باھمی تعاون۔

 

 

بورڈ کا انھیں وسائل کو اختیارکرنا جو شریعت اسلامی سے متفق ھو۔

مثلا:

1.    قرآن وحدیث میں سائنسی اعجاز سے متعلق مقالات کےصحیح معیار کی تعیین ۔

2.    ان احادیث نبوی اور آیات قرآنی کا تحقیقی مطالعہ جو  سائنسی موضوعات سے متعلق ھو ۔

3.   قرآن و حدیث میں سائنسی اعجاز کے مقالات کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ اور کونی اور شرعی رو سے اسکی چھان بین اور اسکی اجازت دینا جو اس سے قبل کھاۓ‎‎ ۔

4.  قرآن و حدیث میں سائنسی اعجاز کے میدان میں انفرادی اور اجتماعی بحث وتحقیق کی ھمت افزائی ۔

5.    سائنسی اعجاز کےمیدان میں کام کرنے والے اسکالرز کی کوششوں کی باھم آھنگی ۔

6.  کونی میدانوں سائنسدانوں کی تحقیقات کی تلاش و جستجو اور جو بھی لکھا اور شائع کیا جا رھا ھو جو قرآن وسنت کے کسی سائنسی قضیہ سے متعلق ھو اس پر تحقیق و مطالعہ ۔

7.  مسلمین اور غیر مسلمین میں کونی اور اسلامی علوم کے متخصصین کے درمیان باھم تعلق استوار کرنا ۔

8.  کونی اور اسلامی علوم میں اسپیشل تنظیموں سے رابطہ اور باھم معلومات کا تبادلہ خیال کرنا ۔

9.  قرآن وسنت میں سائنسی اعجاز سے متعلق کتابوں اور خاص سالانہ نمبرات نکالنا، اور دنیا میں اس سے دلچسپی اور اھتمام رکھنے والوں کو تقسیم کرنا ۔

10. قرآن و حدیث میں سائنسی اعجاز سے متعلق بحث رتحقیق کے حلقات، جلسے اور کانفرنسوں کا انعقاد اور ان مقالات کی اشاعت، اور کانفرنسوں ایسے دوسرے سائنسی جلسوں میں شرکت ۔

11. معتمد مقالات کی ایسے اسلوب میں اشاعت جو لوگوں کے علمی اور ثقافتی معیار کے مطابق ھو ، اور اس کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ۔

12. دعاة اور دنیا میں پرچار کرنے والوں کی امداد  ـ چاھے  وہ افراد کی صورت میں ھوں یاکمیٹیوں کی صورت میں ـــــ ایسے معتمد شدہ مقالات کے ذریعہ جس سے ھر ایک اس سے مستفید ھو سکے ۔

13.  اسپیشل  سائنسی بورڈس اور تعلیمی اداروں کے ساتھ باھم تعاون اور قرآن وسنت میں سائنسی اعجاز کے موضوع سے متعلق کام کرنے والوں کے درمیان جلسوں اور اجتماعات کا انعقاد ۔

14. عام وخاص تعلیمی اداروں اور ان اسلامی تنظیموں کے ان ذمہ داروں سے ـ جو علم و ثقافت سے راستہ ودلچسپی رکھتے ھوں ۔ اس بات کی کوشش معتمد مقالات کو مختلف تعلیمی کمیٹیاں اور تنظیمیں اپنے مختلف تعلیمی نصاب میں داخل کریں۔

15. یونیورسٹیوں کو اس طرف توجہ دلانا کہ پوسٹ گریجویشن میں قرآن و سنت میں سائنسی اعجاز کے موضوعات پر تھیسس رجسٹریشن کرواتیں اور طلباء کی ھمت افزائی اور ان کو مواقع فراھم  کئے جائیں ۔ اور اس میدان میں کام کرنے والوں  کو ھماری تنظیم  اسکالر شپ دیتی ھے ۔