اے یوسف بڑے سچے؛ آپ ھم لوگوں کو اس خواب کا جواب یعنی تعبیر دیجئے کہ سات گائیں موٹی ھیں ان کو سات دبلی گائیں کھا گئیں اور سات بالیں سبز اور سات خشک بھی ھیں، تا کہ میں ان لوگوں کےپاس لوٹ کرجاؤں اور بیان کروں۔ تاکہ ان کو بھی معلوم ھو جاۓ ۔ آپ نے فرمایا کہ تم سات سال متواتر خوب غلہ بونا، پھر جو فصل کاٹو تو اس کو بالوں میں رھنے دینا تا کہ گھن نہ لگ جاۓ، ھاں مگر تھوڑا سا جو تمہارے کھانے میں آۓ ۔ پھر اس سات برس کے بعد سات برس اور ایسے سخت اور قحط کے آئیں گے جو کہ اس تمام تر ذخیرہ کو کھا جائیں گے، جس کو تم نے ان برسوں کیلئے جمع کر کے رکھا ھوگا ھاں مگر تھوڑا سا جو بیج کی واسطے رکھ چھوڑو گے ۔ پھر اس سات برس کےبعد ایک برس ایسا آۓگا، جس میں لوگوں کیلئے خوب بارش ھوگی اور بیج اسکے نچوڑیں گے ۔  ارشاد باری تعالی ھے:"يوسف أيها الصديق أفتنا فى سبع بقرات سمان يأكلهن سبع عجاف وسبع سنبلات خضر وأخر يابسات لعلى أرجع إلى الناس لعلهم يعلمون ، قال تزرعون سبع سنين دأباً فما حصدتم فذروه فى سنبله إلا قليلا مما تأكلون ، ثم يأتي من بعد ذلك سبع شداد يأكلن ما قدمتم لهن إلا قليلاً مما تحصنون ،ثم يأتي من بعد ذلك عام فيه يغاث الناس وفيه يعصرون."   (سورة يوسف الآيات 45-49  )

ترجمہ:اے یوسف بڑے سچے؛ آپ ھم لوگوں کو اس خواب کا جواب یعنی تعبیر دیجئے کہ سات گائیں موٹی ھیں ان کو سات دبلی گائیں کھا گئیں اور سات بالیں سبز اور سات خشک بھی ھیں، تا کہ میں ان لوگوں کےپاس لوٹ کرجاؤں اور بیان کروں۔ تاکہ ان کو بھی معلوم ھو جاۓ ۔ آپ نے فرمایا کہ تم سات سال متواتر خوب غلہ بونا، پھر جو فصل کاٹو تو اس کو بالوں میں رھنے دینا تا کہ گھن نہ لگ جاۓ، ھاں مگر تھوڑا سا جو تمہارے کھانے میں آۓ ۔ پھر اس سات برس کے بعد سات برس اور ایسے سخت اور قحط کے آئیں گے جو کہ اس تمام تر ذخیرہ کو کھا جائیں گے، جس کو تم نے ان برسوں کیلئے جمع کر کے رکھا ھوگا ھاں مگر تھوڑا سا جو بیج کی واسطے رکھ چھوڑو گے ۔ پھر اس سات برس کےبعد ایک برس ایسا آۓگا، جس میں لوگوں کیلئے خوب بارش ھوگی اور بیج اسکے نچوڑیں گے ۔

سائنسی حقیقت:

        سخت ماحول اور حالات میں پیداوار کی حفاظت کیلئے بالیوں میں بیج کو محفوظ رکھنا ایک بنیادی نظام سمجھا جاتاھے۔ اور یہ زراعت، اسٹاک ٹیکنیک اور پیداوار سب کو جامع ھے ۔ اور ڈاکٹر عبد المجید بلعابد اور انکے رفقاء نے گیھوں کےدانون پر مغرب رباط یونیورسٹی میں تجربہ کیا اور دو سال تک بالیوں میں چھوڑے ھوۓ دانوں کا باھر نکلے ھوۓ دانوں سے موازنہ کیا ابتدائی نتائج میں معلوم ھوا کہ بالیوں کےاوپر کوئی صحی تغیر نھیں ھوا اور وہ صد فیصد صحیح اپنی حالت پر بر قرار رھی یہ بھی معلوم ھونا چاھئیے کہ اسٹاک کی جگہ عام تھی جس میں حرارت اور رطوبت وغیرہ کا کوئی خیال نھیں رکھا گیا ۔ اس وقت یہ بات واضح ھو گئی کہ بالی میں چھوڑے ھوۓ دانوں نے پانی کی اچھی خاص مقدار کھودی ھے  اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بالیوں سے جدا دانوں کے مقابلے میں خشک ھو گئے ھیں  اس کا مطلب یہ ھے کہ بالی سے نکلے ھوۓ گیھوں کا وزن 20.3٪ پانی ھوتا ھے جو سلبی طور پر ان دانوں کی کاشت، نمو اور غذائی قدرت پر اثر انداز ھوتا ھے چونکہ پانی کی وجہ سے اس کا سڑنا اور صحی طور پر خراب ھونا آسان ھوتا ھے ، پھر محققین نے نمو کے ممیزات (جڑوں اور تنوں کی لمبائی) کا بالی میں باقی رھنے والے دانوں اور بغیر بالی کے دو سال تک رھنے والے دانوں کےدرمیان موازنہ کیا جس سے  یہ ظاھر ھوا کہ بالیوں میں رھنے والے دانے جڑوں کی لمبائی کے اعتبار سے بیس فیصد اور تنوں کی لمبائی کے حساب سے 32 فیصد نمو میں بہتر ھوتے ھیں۔ پھر محققین نے بغیر کسی کمی زیادتی اور تبدیلی کے بغیر باقی رھنے والے پروٹین اور عام شکر کا اندازہ لگایا۔ جس سے معلوم ھوا کہ بالیوں سے الگ ھونے والے دانوں میں دو سال بعد پروٹین کی 32 فیصد اورایک سال بعد بیس فیصد کمی ھو جاتی ھے، جبکہ بالیوں میں باقی رھنے والے دانوں کےاجزاء میں کوئی تبدیلی نھیں ھوتی۔

سبب اعجاز:

ارشادباری تعالی:"فما حصدتم فذروه فى سنبله"(جو فصل کاٹو اسکو اس کی بالوں میں چھوڑ دو)

اس سے یہ معلوم ھوتا ھے کہ دانوں کو بالیوں میں اسٹاک رکھنا زمانے کی دست برد سے محفوظ رکھنے کیلئے سب سے بہتر ین اسلوب اور عمدہ ٹکنیک ھے، اس آیت کریمہ میں دو سائنسی نکتے ملتے ھیں ۔

1-   پندرہ سال کےاندر کاشت کے دانوں کی صلاحیت کی تحدید یہ ان سات سالوں کا محصول ھےجن میں لوگ پابندی کے ساتھ کھیتی کریں گے اور کاٹیں گے ،اور یہ سر سبزی اور ھر بالی کے سال ھیں۔ اس کے بعد سات سخت اور خشکی اور قحط کے سال آئے گا ۔ اس کے بعد ایک سال یعنی پندرھواں سال آئے گا جس میں لوگوں کو مدد ملے گی ، اور وہ پھلوں سے رس نکالیں گے ، اس سائنسی تحقیق میں اس بات کا بھی علم ھو ا کہ پندرہ سال کی مدت دانوں کے اندر نمو اور کاشت کے اعتبار سے سب سے آخری مدت ھے۔

2-   اسٹاک کاطریقہ: ارشاد باری تعالی "فذروه فى سنبله"(جو فصل کاٹو اسکو اسکی بالوں میں چھوڑ دو)۔

اور یہ تجرباتی تحقیق کےذریعہ معلوم شدہ ایک سائنسی طریقہ ھے جس سے یہ بھی معلوم ھوتا ھے کہ دانوں کے اسٹاک کا سب سے بہتر اور عمدہ طریقہ وھی ھے جس کی طرف اللہ کے نبی یوسف علیہ الصلاة والسلام نے اللہ کی وحی سے اشارہ کیا ھے اور یہ بھی معلوم ھوا کہ یہ طریقہ پرانے زمانے میں خاص طور سے قدیم مصریوں میں معروف نہ تھا بلکہ وہ تو بالیوں سے الگ کر کے دانوں کا اسٹاک کیا کرتے تھے اس طرح سے یہ دانوں کا بالیوں میں اسٹاک کرنے میں ایک سائنسی سبب ھے تاکہ ان کے اندر کوئی تبدیلی یا خرابی نہ آۓ اور قرآن کریم کا اس حقیقت کو بیان کرنا قرآن کریم کی عظمت اور اس کے دقیق علم میں چار چاند لگاتا ھے اور اللہ کی وحی ھونے کو ثابت کرتا ھے۔