(پاک ھے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بناۓ اور اس میں چراغ اور روشن چاند بنایا)۔      ارشاد ربانی ھے " تبارک الذی جعل فی السماء بروجاّ وجعل فیھا سراجا وقمرا منیرا"   61 الفرقان۔

 (پاک ھے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بناۓ اور اس میں چراغ اور روشن چاند بنایا)۔

سائنسی حقیقت:

         سورج کی طاقت (کائناتی نیوکلیائی اثرات)؛ سورج کے اندر ھائڈروجن کے جلنے کی وجہ سے طاقت پیدا ھوتی  ھے اور وھی اس کا بنیادی سبب ھے، جو اس کو داخلی طور پر ھلیوم میں منتقل کر دیتا ھے،جہاں اسکی کثافت اور ھائی پریشر اور ٹمپریچر 15ملین پوائنٹ تک پھونچ جاتا ھے۔ جسکی وحہ سے ھلیوم کے ایک ذرہ کو دینے کیلئے چار ھائڈروحن کےذرات ملنے سے نیوکلیائی اثر پیدا ھوتا ھے۔ جو تاثیر اورتآثر کے نتیجہ میں بلاک گروپس پیدا کرتا ھے، جسکی وجہ سے وہ الکٹرانک مغناطیسی شکل اختیار کرلیتا ھے، اور سورج سے چھوٹی شعاعیں نکلتی ھیں، جس کے ساتھـ دکھائی دینے والی اور سرخ و بنفسگي رنگ کی شعاعیں ھوتی ھیں۔ جس کا مطلب یہ ھے کہ سورج  ھائی پریشر،ٹمپریچر اور کثافت کے تحت فطری نیوکلیائی انضمام کےذریعہ بذات خود طاقت حاصل کرتا ھے۔ گویاکہ وہ زبردست نیوکلیائی اثرات ھیں،تا کہ زمین پہ روشنی ، گرمی،اور طاقت پیدا کریں۔ اورسورج کو ایک ستارہ سمجھا جاتا ھے، گویا کہ وہ ایک آسمانی روشن جسم ھے، جو بذات خود طاقت حاصل کرتا ھے۔ جبکہ چاند ایک ستارہ ھے جو ایک آسمانی جسم ھے جسکی روشنی ثابت ھے، اور وہ ان شعاعوں کو سورج سے اور ستاروں سے حاصل کر کے آگے منتقل کرتا ھے۔ اور یھی چیز تمام ستاروں پر منطبق ھوتی ھے۔

سبب اعجاز:

    قرآن کریم نےچودہ سو سال قبل ستارے اور ستارے کے درمیاں چاند اور سورج کے واسطے سے تفریق کی جانب اشارہ کردیا تھا، جبکہ جدید فلکیاتی ماھرین آخری صدیوں میں نجوم وکواکب پر ضوئی تحقیقات کرنے اور مائیکرسکوپ کے انکشاف کےبعد پھونچے ھیں چنانچہ ستارہ ایک روشنی آسمانی جسم ھے۔ جس کے اندر ذاتی طاقت ھوتی ھے، جبکہ کوکب ایک ایسا جسم ھے، جسکی روشنی ثابت ھے، اور جو ستاروں اور سورج سے روشنی حاصل کر کے منتقل کرتا ھے۔ اور یھی چیز تمام کواکب پرمنطبق ھوتی ھے، چنانچہ سورج ایک زبردست نیوکلیائی حیثیت رکھتا ھے جو فضا میں تیزی کے ساتھـ  تیرتا رھتا ھے، اور جسمیں کمیت اور کیفیت کےاعتبار سے بدلنے والی مختلف شکلیں اور ٹمپریچر اور قوت اور روشنی ھوتی ھے، یہ ایک ثابت روشنی والی روشن ٹکیا نھیں ھے بلکہ وہ چمکدار چراغ ھے۔

   "وجعلنا سراجاّ وھاجاّ" (اورھم نے روشن چراغ بنایا) اور چاند ایک ایسا ستارہ ھے جوسورج سے روشنی حاصل کر کے رات میں زمین کو منور کرتا ھے ، اسی چیز کو قرآن کریم نے دو آیات میں بھت پہلے ثابت کردیا ھے۔   چنانچہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان حقائق سے آگاہ کیا یقینا وہ اللہ رب العزت کی ذات ھے۔