نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : کہ"کوئی مرض ایسا نھیں ھے جس کی دوا کلونجی میں نہ ھو سواۓ موت کے"  نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : کہ"کوئی مرض ایسا نھیں ھے جس کی دوا کلونجی میں نہ ھو سواۓ موت کے"

سائنسی حقیقت:

مشرق وسطی  اور مشرق اقصی کے اکثر ممالک میں دو ھزار سال سے زیادہ عرصہ سے کلونجی کا استعمال ایک طبیعی علاج کے طور پر کیا گیا ھے۔  اور 1959ء میں دخاخنی اور اس کے رفقاء نے کلونجیکے تیل سےنیجیللوں کے مجموعہ کو نکالاھے۔ اور کلونجی کےدانون میں 40 ٪ فیصد ثابت تیل اور 1.4 ٪ فیصد اڑنے والا تیل ھوتا ھے۔ اور 15٪ فیصد حفاظتی ایسیڈ، بروٹین، کیلشیم، آئرن سوڈیم، پوٹاسیم پایا جاتا ھے ۔ اور اس میں کام کرنے والے اھم اجزاء یہ ھیں ، ثیموکینون، دائیثیموکینون،ثیموہئیڈروکینون، اور ثیمون ۔ اور فطری مناعت (تحفظ) میں کلونجی کا اھم کردار ھےجس کا انکشاف 1967 ء میں امریکہ میں قاضی اور رفقاء کے ذریعہ کی گئی ریسرچز میں ھوا ھے۔ اس کے بعد مختلف ممالک میں اور مختلف  میدانوں میں اس پودے کے متعلق تحقیقات اور ریسرچ کا کام ھوا، قاضی صاحب نے اپنی تحقیقات میں اس بات کو ثابت کیاھےکہ قوت مناعت میں کلونجی کا بہت بڑا اثر ھوتا ھے، اس طور پر کہ لمفاوی.... خلایا جو کنٹرول کرنے والی خلایا کی مدد کا کام کرتی ھیں۔ اس میں 73٪فیصد اس کا تناسب ھوتا ھے۔ قاضی صاحب کی ریسرچ کی تائید میں جدید تحقیقات کے نتائج بھی سامنے آۓ ھیں۔ جن میں سے کچھـ مندرجہ ذیل ھیں۔

میگزین " المناعة الدوائية"کے اگست 1995ء کے شمارہ میں خارجی انسانی لمفاوی خلایا پر چند مراحل میں کلونجی کےاثرات کے متعلق اشاعت ھوئی ھے۔ جس میں خون کے مختلف سفید خلایا سے متعلق جو حلق کو تر وتازہ رکھتا ھے۔ اور اسی طرح اس میگزین کے ستمبر 2000ء کے شمارہ میں جوھوں میں cytomealovirus کےخلاف کلونجی کے تیل سے احتیاطی علاج کی تاثیر کےمتعلق ایک تحقیق شائع ھوتی ھے۔  اور کلونجی کے تیل کا استعمال وائرس کو ختم کرنے کیلئے تجربہ کیا گیا ۔ اور وائرس لگنے کے ابتدائی مرحلہ میں اس سے حاصل شدہ دفاعی قوت کا اندازہ لگایا گیا۔ اور اس میں حلق آپریشن اور بڑے بلعمی خلایا (آلے کے خلیے) نیز فطری مہلک خلایا کی تحدید کی گئی۔  اور میگزین "السرطان الأوربية "نامى (یوربین کینسر) کےاکتوبر1999ء کے شمارہ میں چوھوں میں معدہ کے کینسر پر ثیموکینون کے مجموعہ کی تاثیر کےمتعلق ایک اشاعت سامنے آئی ۔اسی طرح میگزین "أبحاث مضادات السرطان" کے مئی 1998ء کے شمارہ میں کلونجی کے تیل سے کینسر کے ورم کوختم کرنے کے متعلق ایک تحقیق شائع ھوئی ھے۔  اسی طرح میگزین " الاثنو الدوائية" کےاپریل2000ء کے شمارہ میں کلونجی کے پیچ دانہ سے ایثانولی کے تیل سے دفاعی اور زھریلے اثرات سے متعلق تحقیق شائع ھوئی ھے۔ (النباتات الطبية) نامی میگزین کے فروری 1995ء کے شمارہ مین کلونجی کے تیل کی تاثیر سے متعلق اور خون کے سفید گلوب پر ثیموکینون کے مجموعہ کے اثرات پر تجربہ شائع کیا گیا ، اسی طرح سے کلونجی کے متعلق مختلف تحقیقات سامنے آتی ھیں۔

سبب اعجاز:

ارشاد نبوی ھے، کہ کلونجی ھر مرض کی دوا ھے، اور کلمۂ شفاء تمام احادیث میں نکرہ استعمال ھوا ھے، سیاق وسباق کے اعتبار سے مثبت اور نکرہ عامہ ھے۔

نتیجة اس لئے یہ کہنا زیادہ بھترھےکہ کلونجی میں ھر مرض سے شفایابی کا کچھـ  نہ کچھـ تناسب موجود ھے اور یہ بھی ثابت ھو چکا ھے، کہ دفاعی نظام ھی ھرمرض کو ختم کرنے کا واحد نظام اور ھتھیار ھے، چونکہ دفاعی قوت خواہ وہ فطری ھو یا حاصل شدہ ھو اس کے اندر اسکی طاقت وصلاحیت ھوتی ھے کہ وہ ایسےجراثیم کو جسم کے اندر پیدا کرے جو امراض کے جراثیم کو بآسانی ختم کردیں۔اور ان کے لئے مہلک ھتیار ثابت ھوں ۔

اور تطبیقی تحقیقات سے یہ بات ثابت ھو چکی ھے کہ کلونجی دفاعی قوت کو ھمہ وقت چست رکھتی ھے۔اور مددگار خلیے ، کنٹرول کرنے والے خلیے اور فطری مہلک خلیے یہ سب بالخصوص لمفاوی خلیے ھیں ان سب کا تناسب قاضی صاحب کی تحقیقات میں 75٪ فیصد ھے۔ اور سائنسی میگزین میں شائع شدہ تحقیقات سے بھی اسکی تائید ھوتی ھے۔ جس میں مددگار لمفاوی خلیے اور حلق کے خلیوں کے حالات میں بہتری آئی۔ اور انتروائرون اور انترلوکین 3.1 کے مجموعہ میں اضافہ ھوا، اور دفاعی خلیوں میں بھی بہتری آتی، دفاعی نظام کی یہ بہتری بعض وائرس اور کینسر کے خلیوں پر کلونجی کے تیل سے ختم کردینے والی تاثیرپر اثر انداز ھوئی۔ اسی مرح بلہارسیا کے کیٹرے لگ جانے کی بیماری  میں بھی مؤثر ھے، اور کافی کمی آئی ھے۔ اس لئے یہ کہنا کہ کلونجی میں ھر مرض کی دوا ھے کیونکہ یہ دفاعی نظام  کو درست رکھتی ھے،اور تقویت دیتی ھے۔ اور اسی نظام میں ھر مرض کا علاج اور شفاء ھے۔ چونکہ یہ نظام ھر مرض کے اسباب کا ازالہ کرتا ھے۔ اور تمام امراض کا کلیاً جزئیاً علاج کرتا ھے۔

اس طرح سے ان احادیث کریمہ سے ایک سائنسی حقیقت کا انکشاف ھوا ھے، جو آج سے چودہ سو سال قبل جس کا کوئی انسان تصور نھیں کر سکتا تھا ، چہ جائی کہ اس کے متعلق گفتگو کرے سواۓ اس نبی کے جو رب ذو الجلال کی جانب سے مبعوث ھے۔ ارشاد ربانی ھے ،"وماینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی" (سورة نجم آیت 3-4)    

      اور وہ (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی جانب سے کوئی بات نھیں کہتے بلکہ وھی کہتے ھیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی جاتی ھے۔